بدھ 25 فروری 2026 - 16:31
خرافاتی افکار اور انحرافی رویّوں کا مقابلہ کرنے پر انبیاء علیہم السلام کو دھمکیاں

حوزہ / انبیاء علیہم السلام لوگوں کو شرک اور خرافات سے خبردار کرتے اور دینِ حق کی دعوت دیتے تھے لیکن مخالفین اپنی جاہ طلبی، تکبر اور خود پسندی کی بنا پر انبیاء کی تبلیغ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے اور انہیں اذیت دیتے، جلا وطن کرتے یا قتل تک کی دھمکیاں دیتے تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم علامہ مصباح یزدی نے اپنی ایک تقریر میں « خرافہ پرستی اور ظلم کے خلاف پیغمبروں کی جدوجہد اور آج کے لیے عبرت» کے موضوع پر گفتگو کی ہے جو اہلِ فکر کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے:

«… اَصَلاتُکَ تَأْمُرُکَ اَنْ نَتْرُکَ ما یَعْبُدُ آباؤُنا اَوْ اَنْ نَفْعَلَ فِی اَمْوالِنا ما نَشاء…» (ہود: 87)

ترجمہ: «کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے یا اپنے مال میں جو چاہیں کرنے سے باز آ جائیں؟»

وہ لوگ جو کسی معاشرے میں رائج خرافی عقائد، افکار اور رویّوں کے خلاف قیام کرتے اور لوگوں کو حق اور عدل کی طرف بلاتے تھے۔

جیسے پیغمبران علیہم السلام اور ان کے سچے پیروکار جو لوگوں کو بت پرستی اور شرک سے روکتے اور دینِ حق، درست اور خدا پسندانہ طرزِ عمل کی دعوت دیتے تھے۔

ان کے مقابلے میں کچھ لوگ ان کی مخالفت پر اتر آتے تھے جن میں جاہ طلبی، تکبر، مال دوستی، خود پسندی اور خود محوری شامل تھیں۔

انبیاء کے مخالفین کی منطق یہ تھی کہ تمہیں لوگوں کے عقائد اور اعمال سے کیا سروکار، ہر شخص کا اپنا عقیدہ اور طرزِ فکر ہے جو اس کے لیے محترم ہے۔

قرآن کریم نے حضرت شعیب اور حضرت لوط علیہما السلام جیسے پیغمبروں کے مخالفین کے ایسے ہی اقوال نقل کیے ہیں۔

انبیاء علیہم السلام ان اعتراضات کے باوجود اپنی رسالت سے دستبردار نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنے الٰہی اہداف کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھتے تھے۔

اور دوسری جانب وہ لوگ جو انبیاء کی کوششوں اور تبلیغ کو اپنے لیے خطرہ اور اپنی توہین سمجھتے تھے، انہیں آزار و اذیت دیتے، اپنے شہروں سے جلا وطن کرتے یا قتل کی دھمکیاں دیتے تھے۔

بعض اوقات یہ دھمکیاں عملی صورت اختیار کر لیتیں اور وہ ان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لیتے تھے جیسا کہ قوم بنی اسرائیل کے بارے میں قرآن بیان کرتا ہے کہ انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنی خواہشات کی مخالفت کرنے پر بہت سے پیغمبروں اور پاکیزہ ہستیوں کو قتل کر دیا۔

ماخذ: اخلاق در قرآن جلد سوم صفحہ ۲۰۱، ترجمہ: آیت اللہ مشکینی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha